آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل رجب طیب اردوان ہے

5 205

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل رجب طیب اردوان ہے

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی ۔ صدر طیب اردگان کا کہنا ہے۔ کہ مسجد آیا صوفیا کے بعد اگلی منزل قبلہ اول ہوگی اور ہم مسجد اقصی کو بھی آزاد کروائیں گے۔ انقرہ اور تہران کی خارجہ پالیسی میں مسجد اقصی کو آزاد کروانا پہلی ترجیح ہے۔ خلافت عثمانیہ کے خلیفہ کی آخری پوتی نے آیاصوفیا مسجد میں نماز ادا کی۔

جمعہ کا دن ترکی کے مسلمانوں کے لیے بہت خوشی کا دن تھا۔ خوشی کا سبب صبر ازما جدوجہد کے86 سال کے لمبے عرصے کے بعد مسجد کا آزاد ہونا تھا۔ 

 

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی

 

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی
قانونی جنگ کے بعد کے بعد آخر کار وہ دن آ ہی گیا کہ مسجد آیا صوفیہ کے میناروں سے توحید کا بلند ہونا تھا۔ جو کہ ترکی کے مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ اہم تھا۔ نماز جمعہ کا بڑا اجتماع ہوا مسجد صوفیہ میں تقریبا آٹھ دہائیوں بعد االلہ تعالی کا نام بلند ہوا۔ اور باقاعدہ جماعت کا آغاز ہوا ہے۔ صدر طیب ارد گان نماز جعہ ادا کرنے مسجد آیا صوفیہ پہنچے۔

اس موقع پر آپ نے کہا ہے “اگلی منزل مسجد اقصی ہوگی اب ہم مسجد اقصی کو آزاد کروائیں گے”۔

 

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی

اسرائیل نے بھی اس بیان کو کور کیا۔ انکرہ اور تہران میں مسجد اقصی کو آزاد کروانا پہلی کوشش ہوگی۔ ترکی میں مسجد صوفیا کو دوبارہ نماز کے لیے کھولنے پر اسرئیل بہت گھبرا رہا ہے۔ اسرائیل کے میڈیا کے مطابق مسجد آیا صوفیہ کی آزادی کے بعدترکی کی اگلی منزل مسجد اقصی ہے۔ جو کہ اسرئیل مذہبی پراپوگنڈا کر رہا ہے۔ اور اس کو پھیلا رہے ہیں۔ کہ اس کا مقصد تمام مسلم دنیا کو متحد کرنا ہے۔

 

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی

آیا صوفیہ کو گیارہ جولائی کو مسجد میں بدلنے کی منظوری دی گئی تھی۔ 24 جولائی 2020 کو 86 سال بعد پہلی نماز جمعہ با جماعت ادا کی۔ یاد رہے کہ 1934 مصطفٰی کمال نے مسجد کو میوزیم میں بدل دیا تھا۔ جو کہ ایک بہت غلط اور اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دینا تھا۔ ترکی میں جب سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی یہ عمارت مسجد میں بدل دی۔ یہ تاریخی عمارت 1453 سے نو سو سال تک چرچ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی

سلطنت عثمانیہ کے دور میں اس عمارت کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری خلیفہ کی پوتی نے اس مسجد میں ادا کی۔ نلہان عثمان نے بھی شرکت کی جو آج بھی ترکی میں رہائش پذیر ہے۔ اور جب صدر طیب اردگان شرکت کے لیے مسجد آئے تو وزاء نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلم دنیا کا بہت اہم دن تھا۔ جب مسلمان نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں آئے اور اطراف میں بھی لوگ کافی تعداد میں جمع ہو گئے۔ کیونکہ کوئی
بھی اس تاریخی موقع سے پیھچے نہ رہ جائے۔ اس قیمتی وقت سے فائدہ اٹھا سکے86 سال کے بعد اس مسجد میں لوگ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوئے۔

 

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی

واضع رہے کے 10 جولائی 2020 کو ترکی کی عدالت کونسل آف سٹیٹ نے اہم فیصلہ سنایا۔ سلطان محمد فاتح فائونڈیشن کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے 1934 کے فیصلے کو منسونخ کردیا تھا۔ اور کہا گیا کہ اس عمارت کو مسجد کے علاوہ اور مقصد کیلیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس عمارت کو چھٹی صدی میں تعمیر کیا گیا تھامسلمانوں کی کامیابی 86 سال کے بعد قانونی طریقے سے حاصل کی جو کہ بہت بڑی کامیابی تھی۔

آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی
یہ عمارت 537 تعمیر کی گئی تھی۔ایک ہزار سال تک اس کو گرجا گھر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مسجد کی نمایاں چیز اس کا گمبد تھا۔

 

مزئد پڑھیئے

ارتغرل غازی پاکستان میں ۔ انجین الٹان ترک اداکار پاکستان پہنچ گئے

اردو پوئنٹ

 

  1. […] آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل ر… […]

  2. […] آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل ر… […]

  3. […] آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل ر… […]

  4. […] آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل ر… […]

  5. […] آیا صوفیہ کے بعد مسجد اقصٰی اگلی منزل ہے۔ آج کا ارتغرل ر… […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.