سبق آموز واقعات اور حکایات . نصیحت جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کر لینا چاہیئے

1 181

سبق آموز واقعات اور حکایات علم اور نصیحت جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کر لینا چاہیئے

سبق آموز واقعات اور حکایات انسان کی اصلاح کے لیئے محفوظ کی گئی باتیں ہوتی ہیں۔ جن سے سیکھ کر یا ان پر عمل کر کے انسان ہمیشہ فائدہ ہی اٹھاتا ہے۔ کیونکہ یہ اہل علم کے علم اور اہل عمل کے تجربہ کا نچوڑ ہوتی ہیں۔

 

…(ہیرے اور سونے کا فرق)…

سبق آموز واقعات اور حکایات
شیخ سعدی سے کسی نے دوست اور بھائی کے بارے میں دریافت کیا۔آپ نے بتایا:
”ان میں وہی فرق ہے جو ہیرے اور سونے میں ہے۔دوست ہیرے کی مانند ہوتا ہے اور بھائی سونے کی مانند ہوتا ہے۔”
وہ شخص حیران ہوا اور کہنے لگا کہ بھائی حقیقی رشتہ ہے۔ اسے آپ کم قیمت یعنی سونے سے منسوب کر رہے ہیںجبکہ دوست کو زیادہ قیمتی یعنی ہیرے سے اس میں کیا حکمت ہے۔
شیخ سعدی نے کہا :”سونا چونکہ کم قیمت ہے لیکن اگر وہ ٹوٹ جائے تو اس کو پگھلا کر اصلی شکل دی جا سکتی ہے اور اگر بھائیوں کے درمیان لڑائی بھی ہو جائے تو دور ہو جاتی ہے لیکن اگر دوستی میں فرق آ جائے تو وہ دور نہیں کیا جاسکتا۔”

سبق آموز واقعات اور حکایات

ماں کیاہے؟…

سبق آموز واقعات اور حکایات

 

  • ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
  • ماں کی محبت پھول سے زیادہ تروتازہ اور لطیف ہوتی ہے۔
  • ماں ایک پھول ہے جو دنیا کے کانٹے چبھنے کے باوجود مسکراتی ہے۔
  • ماں کے بغیر گھر خالی لگتا ہے۔
  • ماں کی آغوش انسان کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔
  • ماں زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینار ہے۔
  • ماں کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے۔
  • ماں کو مصیبت کے وقت جب بھی یاد کرو تو سکون ملتا ہے۔
  • ماں سے بڑھ کر کوئی بڑا استاد نہیں۔
  • ماں ایک ایسا درخت ہے جس کا سایہ زندگی کی تھکن دور کرتا ہے۔
  • ماں انسانوں کو سب سے زیادہ پیار کرنے والی ہستی ہے۔
  • ماںکے بغیر کائنات نا مکمل ہے۔

 

سبق آموز واقعات اور حکایات

ایک حکایت کی ایک ہدایت

سبق آموز واقعات اور حکایات
ابنِ طفیل ایک مشہورفلسفی ، دانشور اور معلم ہو گزرے ہیں ۔ ایک دن طلباء کو درس دینے دارالعلوم میں تشریف لائے توطلباء ان کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ طلباء نے اس مسرت اور شادمانی کا سبب پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ آج مجھے کچھ راز معلوم ہوئے ہیں کہ:
کوئی پھل دار درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتا۔
کوئی دریا اپنا پانی خود نہیں پیتا۔
کوئی ساز اپنی آواز سن کر مسرور نہیں ہوتا۔
کوئی قدرتی منظر اپنے حسن پر ناز نہیں کرتا۔
کوئی درخت اپنے سائے میں خود آرام نہیں کرتا۔
مگر انسان کتنا خود غرض ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز کو خود اپنے استعمال میں لاتا ہے ۔وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کوئی دوسرا اس نعمت کو استعمال کرے ۔ جبکہ دنیا کی ہر چیز دوسروں کے استعمال کے لیے بنی ہے لیکن انسان چاہتا ہے کہ ہر چیز پر صرف اسی کا حق ہو۔

 

سبق آموز واقعات اور حکایات

 

قائدِاعظم کے بارے میں…

 

سبق آموز واقعات اور حکایات

  • قائداعظم نے گورنر جرنل کے عہدے کا حلف ١٥ اگست کو اٹھایا۔
  • قائداعظم سے گورنر جرنل کا حلف چیف جسٹس میاں عبدالرشید نے لیا تھا۔
  • قائداعظم کی اہلیہ رتن بائی نے ١٨ اپریل ١٩١٨ ء بروز جمعرات کو اسلام قبول کیا۔
  • قائداعظم کی اہلیہ رتن بائی کا انتقال ٢٠ فروری ١٩٢٩ء کو ہوا تھا۔
  • قائداعظم کی کراچی میں ذاتی رہائش گاہ کا نام فلیگ سٹاف ہائوس تھا۔
  • قائداعظم نے روزنامہ ”ڈان” کا اجراء دہلی سے کیا تھا۔
  • قائداعظم کے ہوائی جہاز کا نام ”وائی کنگ ” تھا۔

 

 

 

 

سبق آموز واقعات اور حکایات

پانچ چیزیں……

امام اوزارعی فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں صحابہ کرام میں مشترکہ تھیں:
١۔ جماعت کے ساتھ رہنا۔
٢۔ سنت کی پیروی کرنا۔
٣۔ مساجد آباد کرنا۔
٤۔ تلاوت قرآن پاک کرنا۔
٥۔ جہاد
افسوس کہ یہ پانچ چیزیںآج مسلمانوں میں نہیں ہیں ۔جماعت کی جگہ اختلاف نے لے لی ہے۔سنت کی جگہ بدعات نے لے لی ہے۔ مسلمان مساجد آباد کرنے کی بجائے عمارات بنانے میں لگ گئے ہیں۔قرآن کی تلاوت کی جگہ لغویات میں وقت ضائع کرنے لگ گئے ہیں اور جہاد کا جذبہ دنیا کی محبت میں دب کر رہ گیا ہے۔

 

سبق آموز واقعات اور حکایات

 

حکیم لقمان کی گفتگو

سبق آموز واقعات اور حکایات
عقل جب حکیم لقمان کے پاس آئی تو انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے اور کہاں رہتی ہے؟
اس نے کہا ، میں عقل ہوں اور انسان کے سر میں رہتی ہوں۔ پھر شرم آئی تو لقمان نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اور کہاں رہتی ہے ؟

ا س نے کہا میں شرم ہوں اور زیر چشم رہتی ہوں ۔ اسی طرح محبت آئی اور اس نے کہا کہ میں انسان کے دل میں رہتی ہوں۔ جب یہ تینوں چلی گئیں تو تقدیر آئی اور کہنے لگی ، لقمان میں تقدیر ہوں اور انسان کے سر میں رہتی ہوں۔ لقمان نے کہا کہ وہاں تو عقل رہتی ہے۔ تقدیر بولی! جب میں انسان کے سر میں آتی ہوں تو عقل رخصت ہو جاتی ہے۔

بعد از عشق آیا اورکہنے لگا،لقمان میں انسان کی آنکھ میں رہتا ہوں۔ لقمان نے کہا وہاں تو شرم رہتی ہے۔ عشق بولا! جب میں آجاتا ہوں تو شرم اُٹھ جاتی ہے۔ آخر میں طمع آئی اور کہنے لگی ! لقمان میں انسان کے دل میں رہتی ہوں ۔ لقمان نے کہا !وہاں تو محبت رہتی ہے۔ طمع بولی! جب میں انسان کے دل میں بسیرا کرتی ہوں تو محبت رخصت ہو جاتی ہے۔

 

مزید پڑھیئے

کائنات کیسے تخلیق ہوئی 

دعاء الاستخارة

  1. […] سبق آموز واقعات اور حکایات . نصیحت جہاں سے بھی ملے اسے ح… […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.